Poets
Trending

200+ Parveen Shakir Poetry in Urdu | Parvin Shaker Shayari

Best Parveen Shakir Poetry in Urdu

Parveen Shakir Poetry
Parveen Shakir Shayari

Parveen Shakir Poetry ، پروین شاکر کی پیدائش 24 نومبر 1952 کو کراچی میں ہوئی۔ ان کا اصل آبائی شہر بہار کے دربھنگہ ضلع میں لاہیریا سرائے تھا۔ ان کے والد شاکر حسین ثاقب ، جو ایک شاعر بھی تھے ، پاکستان کے خلقت کے بعد وہ کراچی میں بس گئے

پروین کی شخصیت خود اعتمادی سے بھری ہوئی تھی جو ان کی شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔ اس کی وجہ سے ، انہوں نے اپنی زندگی میں ہر قسم کی مشکلات کا سامنا کیا۔

پروین شاکر ایک نئے اور تازہ اظہار رائے کے شاعر تھے جنھوں نے مردوں کے بارے میں خواتین کے جذبات کو بخوبی جذب کیا۔ Parveen Shakir Shayari نہ تو آہ و زاری والی روائتی عشقیہ شاعری ہے اور نہ ہی Romantic Poetry۔ جذبات کی شدت اور اس کا سادہ سا فنکارانہ اظہار Parvin Shaker Shayari کی خصوصیت ہے۔ اس کی شاعری اتحاد اور علیحدگی کی جدوجہد کا مظہر ہے ، جہاں دونوں میں سے کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ پروین کی اخلاص ، خوبصورتی ، اور اظہار خیال کی پاکیزگی نے اسے خواتین کی اردو شاعری میں ایک ممتاز مقام حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔

Parveen Shakir Poetry in Urdu شادی کی غلط فہمی اور خواتین پر مرد کی اجارہ داری کو چیلنج کرتے ہوئے نئی نسل کو بیدار کرنے کا پیغام دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے پیج پر دیئے گئے ان Parveen Shakir Poetry (پروین شاکر پوٹری) کو پسند کریں گے۔

Parveen Shakir Poetry in Urdu

جس جگہ مالکن بننے کے دیکھے تھے میں نے خواب
اس گھر میں ایک شام کی مہمان بھی نہ تھی

Jis jagah maalkin bannë kë dëkhë thë mainë khwaab
Us ghar mëin ëk shaam ki mëhmaan bhi na thi.

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

Chëhra o naam ëk saath aaj na yaad aa sakë
Waqt në kis shabih ko khwaab or khayaal kar diya.

ایک سورج تھا کہ تاروں کے گھرانے سے اٹھا
آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اٹھا

Ëk sooraj tha ki taaron kë gharanë së utha
Aankh hairan hai kya shakhs zamanë së utha.

کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والا
زخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والا

Kya karë mëri masihai bhi karnë waala
Zakhm hi yëh mujhë lagta nahi bharnë waala.

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

Kal raat jo indhan kë liyë kat kë gira hai
Chidiyon ko bahut pyaar tha us budhë shajar së.

Parveen Shakir Shayari in Urdu (پروین شاکر پوٹری)

بارہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں ایک دلہن کی طرح

Bada tëra intëzaar kiya
Apnë khwaabon mëin ëk dulhan ki tarah.

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

Kanton mëin ghirë phool ko choom aayëgi lëkin
Titli kë paron ko kabhi chiltë nahi dëkha.

جس طرح خواب میرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

Jis tarah khwaab mërë ho gayë rëza rëza
Us tarah së na kabhi toot kë bikhrë koi.

میری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

Mëri tarah së koi hai jo zindagi apni
Tumhari yaad kë naam intisaab kar dëga.

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے میرے شہر سے چلا بھی گیا

Main phool chunti rahi aur mujhë khabar na hui
Woh shakhs aa kë mërë shëhër së chala bhi gaya.

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10Next page

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button